باز پرس

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - پوچھ گچھ، محاسبہ، مواخذہ، جواب دہی۔ (جواب طلبی کے طور پر)۔ "وہ آنے والی نسلوں کی امانت ہے - اگر وہ جوں کی توں ان تک نہ پہنچائی جائے تو ان کو باز پرس کا حق ہے۔"      ( ١٩٤٠ء، ہم اور وہ، ٨٨ ) ٢ - روز قیامت کا حساب کتاب۔ "اے پیغمبر تم سے اس کی کچھ بازپرس نہیں۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق والفرائض، ٥:٢ )

اشتقاق

فارسی زبان میں متعلق فعل 'باز' کے ساتھ مصدر پرسیدن سے صیغۂ امر 'پرس' بطور لاحقۂ فاعلی لگنے سے مرکب 'باز پرس' بنا۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٧٩٣ء میں قائم کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پوچھ گچھ، محاسبہ، مواخذہ، جواب دہی۔ (جواب طلبی کے طور پر)۔ "وہ آنے والی نسلوں کی امانت ہے - اگر وہ جوں کی توں ان تک نہ پہنچائی جائے تو ان کو باز پرس کا حق ہے۔"      ( ١٩٤٠ء، ہم اور وہ، ٨٨ ) ٢ - روز قیامت کا حساب کتاب۔ "اے پیغمبر تم سے اس کی کچھ بازپرس نہیں۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق والفرائض، ٥:٢ )

جنس: مؤنث